اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تیونس کے ممتاز عالم دین علامہ سید محمد تیجانی السماوی نے گذشتہ منگل کے روز (30 نومبر 2010) حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے شبستان امام خمینی (رح) میں عید مباہلہ کے سلسلے میں منعقدہ عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نظام ولایت فقیہ کو اسلام کا حقیقی سیاسی نظام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ولایت فقیہ ولایت امام علی علیہ السلام کا تسلسل ہے۔ اس اجتماع میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا اور ڈاکٹر صاحب نے حاضرین کے سوالات کے جوابات دیئے:پوچھا گیا کہ آیت مباہلہ میں جمع کا صیغہ کیوں بروئے کار لایا گیا ہے؟ تو انھوں نے کہا: یہ ایک شاہانہ خطاب ہے جو قرآن میں متعدد بار بروئے کار لایا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالی اپنے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: نحن نزلنا الذکر و انان نحن لہ لحافظون. ہم نے اس قرآن کو وقفے وقفے سے نازل کیا اور ہم ہی حقیقتاً اس کے حافظ ہیں. علامہ تیجانی نے بعض خواتین سے رسول اللہ (ص) کے رشتۂ ازدواج کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: رسول اللہ (ص) نے کوئی بھی زوجہ اپنی مرضی سے اختیار نہیں کی ہے بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق رشتے کئے ہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ (ص) کو سب پر ولایت حاصل تھی اور رسول اللہ (ص) کی زوجات مؤمنین کی مائیں ہیں. ڈاکٹر تیجانی نے خودکش حملوں اور ان میں کثیر تعداد میں انسانوں کے قتل کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ہوئے کہا: یہ وہابیت کا عقیدہ ہے اور وہابی خودکش حملہ آوروں کی ذہنی تطہیر (Brainwashing) کردیتے ہیں اور وہ شیعیان اہل بیت (ع) کو مشرک اور کافر سمجھنے لگتے ہیں اور شیعیان اہل بیت (ع) کے قتل کو یہود و نصاری کے قتل سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں، اور اس درندگی کے بدلے اپنے آپ کو جنت کا مستحق سمجھتے ہیں یعنی وہ درحقیقت خوارج کے پسماندگان اور ابن ملجم مرادی کے تفکر کی پیروی کرتے ہیں جو سمجھ رہے تھے کہ علی علیہ السلام [قسیم النار و الجنة (1)] کو قتل کرکے وہ جنت چلے جائیں گے اور مسلم اول حضرت امیرالمؤمنین (ع) کو مؤمن نہیں سمجھتے تھے. [رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشاد کے مطابق، انسانی تاریخ کا بدبخت ترین «اشقی ہذہ الامة» (2)] یعنی عبدالرحمن بن ملجم مرادی خارجی سمجھتا تھا کہ اس نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قتل کیا ہے. خوارج صرف اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے تھے اور دوسروں کو اسلام سے خارج تصور کرتے تھے جیسا کہ اِن لوگوں کا خیال بھی یہی ہے.انھوں نے کہا کہ یہ عالم اسلام کے لئے خوش قسمتی ہے کہ وہابیت تشیع کی دشمن ہے تو اہل سنت کی بھی دشمن ہے اور وہ دونوں کو کافر اور مشرک سمجھتی ہے اور صرف اپنے آپ کو فرقہ ناجیہ سمجھتی ہے اور ان کا یہ رویہ بھی مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی بنیاد ہوسکتا ہے. [وہابی سنیوں کو بھی اہل تشیع کی طرح ہی واجب القتل سمجھتے اور انہیں بلا جھجھک قتل کردیتے ہیں اور ایسے واقعات کی مثالیں بے شمار ہیں]۔انھوں نے کہا: یہ جو کہا گیا ہے کہ "تاریخ دہرائی جائے گی"، خوارج کے سلسلے میں یہ بات ثابت ہوئی جو صرف اپنے آپ کو حقیقی مسلمان سمجھتے تھے. ڈاکٹر سماوی تیجانی نے کہا: مباہلہ صرف عصر رسول اللہ (ص) تک محدود نہیں ہے؛ جس مباہلے کا ذکر قرآن میں آیا ہے اس کے پس منظر میں عیسائی دنیا کا ایک واقعہ بھی ہے؛ اس وقت جب بعض عیسائیوں نے عیسی (ع) کو خدا کا بیٹا قرار دیا اور حضرت عیسی (ع) کے پیروکاروں کو بندگان خدا سمجھتے تھے لیکن اگر آج بھی ہم بعض مباحث میں نتیجے پر نہ پہنچ سکیں تو ہم اس زمانے میں بھی مباہلے کا سہارا لیں گے. علامہ تیجانی سماوی نے کہا کہ ولایت فقیہ علی علیہ السلام کی ولایت کا تسلسل ہے اور کاش تمام مسلمان اس حقیقت کو سمجھ لیتے کہ ولایت فقیہ ولایت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کا تسلسل ہے۔ علامہ تیجانی السماوی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ظہور امام مہدی عَجَّلَ اللہُ تعالی فَرَجَہُ الشریف میں تعجیل کے خواہاں ہیں تو ہمیں ولایت فقیہ کے پرچم تلے متحد ہونا چاہئے۔ انھوں نے ایک بار پھر حسرت بھرے انداز میں کہا: کاش مسلمانان عالم ولایت فقیہ کی حقیقت کا ادراک کرسکتے کیونکہ یہ امت مسلمہ مسلمانوں کے اتحاد اور یگانگت کیلئے بہت ضروری ہے۔دین اسلام کے اس محقق نے کہا: یہ جو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں دولت کریمہ عطا فرمائے (3) یہ صرف ولایت فقیہ کی پرچم کے سائے میں ہی ممکن ہے اور یہ حکومت حضرت مہدی (عج) کی عنایات خاصہ سے مستحق قرار پائے گی. انھوں نے کہا کہ دولت کریمہ کو عملی جامہ پہنانے کا عظیم کام صرف اور صرف ولی فقیہ کے زیر سایہ متحد ہونے سے ہی ممکن ہے۔ انھوں نے حاضرین سے مخاطب ہوکر کہا: اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ امام زمانہ (عج) جلد از جلد ظہور فرمائیں تو ولایت فقیہ کے پرچم تلے متحد رہیں کیونکہ آپ کو اس وحدت کا ادراک کرنا چاہئے اور جب اس وحدت کی ضرورت و اہمیت کا ادراک کریں گے تو امام زمانہ علیہ السلام ظہور فرمائیں گے۔ انھوں نے کہا: ولایت فقیہ مسلمانوں کیلئے عزت و عظمت و اعزاز و افتخار کا سبب ہے؛ ولایت فقیہ اسلام دشمن عناصر کی سازشوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ولایت فقیہ کی بدولت ہی ہمارے خلاف دشمن کی سازشیں ناکام ہوجاتی ہیں. ..........
مآخذ:1)۔ سنی روایات: عن علی (ت) أنا قسیم النار میں ہی دوزخ کو تقسیم کرنے والا ہوں۔ (الفایق فی غریب الحدیث جارالله زمخشری ج 3 ص 97) و روی أیضا عن الأعمش عن موسی بن طریف ، عن عبایة ، قال سمعت علیا ( ع ) ، وهو یقول : أنا قسیم النار و الجنة. نیز زمخشری ہی اعمش سے موسی بن طریف سے اور عبایہ روایت کرتا ہے؛ عبایه کہتا ہے: میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا: میں دوزخ اور جنت کو تقسیم کرنے والا ہوں۔ (شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید ج 2 ص 260 و ج 19 ص 140.)ابن کثیر: عن عبایة عن علی قال : أنا قسیم النار، إذا کان یوم القیامة قلت هذا لک وهذا لی . ابن کثیر عبایه سے روایت کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے فرمایا: میں دوزخ کو اہل دوزخ کو بانٹنے والا ہوں، جب قیامت ہوگی تو میں کہوں گا کہ اے جہنم یہ شخص تیرے لئے اور یہ شخص میرے لئے۔ (البدایه و النهایه ج 7 ص 392)نیز یہ روایت "غریب الحدیث" ، ج 1 ، ص 377 ، النهایه فی غریب الحدیث ، ج 4 ، ص 61 و المناقب ، خوارزمی ، ص 41 اور کنزالعمال متقی هندی ج 13 ص 152، اور تاریخ مدینه دمشق ج 42 ص 298 میں بھی نقل ہوئی ہے.شیعہ روایات:شیعہ روایات میں اس حوالے سے متعدد روایات وارد ہوئی ہیں جن میں سے صرف ایک روایت پر اکتفا کرتے ہیں:قال علی ابن موسی الرضا علیه السلام: قال رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم (لامیرالمؤمنین علیه السلام) یا علي انك قسیم الجنة و النار۔ حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرمایا: یا علی! آپ ہی جنت اور دوزخ کو اہل جنت اور اہل دوزخ میں تقسیم کرنے والے ہیں۔ (عیون اخبار الرضا ج 1 ص 30)2)۔ ابن اثير جَزَري در كتاب «اُسدُالغابة» از أميرالمؤمنين عليہ السّلام روايت ميكند كہ گفت: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّي الله علَيه وَاله وَ سَلَّم: مَن أشْقَي الاوَّلِينَ؟ قُلْتُ: عَاقِرُ النَّاقَةِ. قَالَ: صَدَقْتَ. قَال؟َ فَمَن أشْقَي الآخِرِينَ؟ قُلْتُ: لا عِلْمَ لِي يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: الَّذي يَضْرِبُكَ عَلَي هَذَا ـ وَ أشَارَ بِيَدِهِ إلَي يَا فُوخِهِ. وَ كَانَ يَقُولُ: وَدِدْتُ أَنَّهُ قَدِ انْبَعَثَ أشْقَاكُمْ فَخَضَبَ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ـ يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ دَمِ رَأسِهِ.این اثیر الجزری کتاب اسد الغابہ میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ: رسول خدا صلّي اللہ عليہ وآلہ وسلّم نے مجھ سے مخاطب ہوکر سوال کیا: کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلاف گذری ہوئی نسلوں میں شقی ترین اور بدبخت ترین شخص کون ہے؟ میں نے عرض کیا: قوم ثمود میں سے وہ شخص جس نے حضرت صالح (ع) کی کوچیں کاٹ دیں اور اسے قتل کردیا. رسول اللہ (ص) نے فرمایا: آپ نے سچ کہا. لیکن اب بتائیں کہ آخرین (بعد میں آنے والوں) میں سب سے زیادہ شقی اور بدبخت شخص کون ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)! میں نہیں جانتا. رسول اللہ (ص) نے فرمایا: رسول اللہ (ص) نے فرمایا: آخرین میں بدبخت ترین اور شقی ترین شخص وہ ہے جو اس آپ کے سر کے اس حصے پر ضربت لگائے گا اور رسول اللہ (ص) نے ہاتھ سے میرے سر کے اگلے حصے کی طرف اشارہ فرمایا. راوی کہتا ہے: امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تمہارا بدبخت ترین شخص اٹھایا جائے اور میری داڑھی کو میرے خون سے خضاب کردے. اور آپ (ع) سے اپنے سر اور داڑھی کی جانب اشارہ فرمایا. "ُسد الغابة" ج 4 ، ص 34 و ص 35 - ابن اثیر نے یہ روایت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے حالات زندگی ضمن میں نقل کی ہے. نيز یہ روایت "الصواعق المحرقة" میں ابن حجر نے بھی صفحہ 74 پر نقل کی ہے اور اس حدیث کے پہلے حصے کو ابن سعد کی "طبقات" مطبوعہ بيروت ، ج 3، صفحہ 35 سے نقل کیا ہے؛ نيز سبط ابن جوزي نے اپنی کتاب "تذكرة الخواص" صفحہ 99 اور صفحہ 100 پر یہی روایت احمد بن حنبل کی کتاب "الفضائل" سے اور ابن حنبل نے یہ روایت وكيع سے، قتيبة بن قدامة رواسي سے اور اس نے اپنے والد سے، ضحاك بن مزاحم سے اور ضحاک نے علي عليہ السّلام سے نقل کی ہے؛ نيز عبداللہ بن أحمد بن حنبل نے اپنی کتاب "الزہد" میں اپنے والد سے ان ہی اسناد کے توسط سے یہی روایت نقل کی ہے۔ یہ روایت عبارت کے اختلاف کے ساتھ ابن عساكر نے "تاريخ مدینة دمشق" جلد 42 صفحہ 546 پر نقل کی ہے۔3)۔ اَللّـهُمَّ اِنّا نَرْغَبُ اِلَيْكَ في دَوْلَة كَريمَة تُعِزُّ بِهَا الاِْسْلامَ وَاَهْلَهُ، وَتُذِلُّ بِهَا النِّفاقَ وَاَهْلَهُ، وَتَجْعَلُنا فيها مِنَ الدُّعاةِ اِلى طاعَتِكَ، وَالْقادَةِ اِلى سَبيلِكَ، وَتَرْزُقُنا بِها كَرامَةَ الدُّنْيا وَالاْخِرَةِ، (دعائے افتتاحاے معبود! ہم ایسی برکت والی حکومت کی خاطر تیری طرف رغبت رکھتے ہیں جس سے تو اسلام و اہل اسلام کو قوت و عزت و عظمت عطا فرمائے اور نفاق و اہل نفاق کو خوار و ذلیل کردے اور اس حکومت میں ہمیں اپنی اطاعت کی طرف بلانے والے اور اپنے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والے قرار دے اور اس کے ذریعے ہمیں دنیا و آخرت کی عزت عطا فرما. علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ معتبر سند کے ساتھ روایت ہوئی ہے کہ حضرت صاحب العصر (عج) نے یہ دعا اپنے پیروکاروں کے لئے تحریر فرمائی ہے۔ یہ دعا ماہ مبارک رمضان کی تمام راتوں میں پڑھنا مسنون ہے کیونکہ ملائکہ اس دعا کو سنتے ہیں اور پڑھنے والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔
...........
ڈاکٹر سماوی تیجانی کا مختصر تعارف انگریزی میں:
BiographyMohammad al-Tijani al-Samawi was a Tunisian student who, upon making Hajj, was influenced by orthodox Saudi teachings, against saint veneration and tomb visitation, which were cent